四房开心天

Skip to main content
Siyasat Or Allama Iqbal

سیاست اور علامہ اقبال

بدھ نومبر

四房开心天
Siyasat Or Allama Iqbal
سید عارف نوناری
علامہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک سیاسی مفکر بھی تھے۔آپ کے سیاسی نظریات نے معاشرہ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں اور مسلمانوں کو خاص طور پر اپنے حقوق سے آگاہ کیا۔تصور پاکستان کے موجد کے حوالہ سے تو آپ کی شخصیت نمایاں و واضح ہے جبکہ ایک سیاسی مفکر کی حیثیت سے لوگ کم آشنا ہیں۔
علامہ اقبال کی نگاہ میں جو لوگ عوام کی ضروریات و مسائل سے آگاہ نہیں وہ بے دل لوگ ہیں اور وہی لوگ انگریز کے خواص میں شامل ہیں۔

علامہ نے اپنے تمام تر فلسفے کو فرد کی اہمیت اور قوم سے تعلق پر مبنی کیا ہے ان کے خیال میں ایک فرد کی انفرادی طور پر کوئی اہمیت نہیں۔تا وقتیکہ وہ ایک قوم کی صورت میں میدان عمل میں سرگرم نہ ہو۔ظاہر ہے کہ قوم کی تشکیل افراد کی محتاج ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


اگر سوچا جائے تو اقبال کا یہ فلسفہ ہی مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا اور مسلمان پھر ایک تحریک کی صورت میں ابھرے۔

اس حوالہ سے اقبال کا 1930ء کا خطبہ آلہ آباد معرض وجود میں آیا اور برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کے قیام پر مجبور کر دیا۔
علامہ اقبال سیاسی ترقی کے لئے قوم میں دو چیزوں کا ہونا بہت ضروری خیال کرتے تھے۔دینی و دنیاوی تعلیم اور ترقی معیشت ۔کسی بھی ملک کے نظام حکومت کو چلانے کے لئے قانون کا احترام کیا جانا ازبس ضروری ہے۔علامہ اقبال بھی قانون کی عزت کے حامی ہیں ان کی نگاہ میں کامیاب معاشرہ کی تشکیل قانون کے نفاذ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مقننہ کو قوانین بناتے وقت‘وقت کے تقاضوں کی مد نظر رکھنا چاہئے۔
علامہ اقبال کا خیال ہے کہ سیاست سے مراد ایک ایسی جمہوریت کی تشکیل ہے جس کا نظم و انضباط قانون کے ماتحت عمل میں آئے اور جس کے اندر مخصوص اخلاقی روح سرگرم عمل ہو۔
علامہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ میں خطبہ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست کی جڑ انسان کی روحانی زندگی ہوتی ہے۔

مذہب اسلام اخلاقیات کے بہترین اسباق دیتا ہے اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو اجتماعی اور انفرادی اخلاق اسلام نے پیش کیا ہے اقوام عالم اور ادیان جہان میں اس کی مثال کم ملتی ہے۔اس لئے علامہ نے سیاست اور مذہب کو ایک ہی جسم کے دو اعضا بنایا ہے۔کچھ سیاسی مفکرین اسلام یا مذہب کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتے لیکن اقبال کے نظریات و خیالات میں مذہب کو اولیت دی گئی ہے ان کے مذہبی تصورات احادیث اور قرآن سے مطابقت رکھتے ہیں۔


افسوس کا مقام ہے کہ اقبال نے جس خطہ زمین کے حصول کے لئے اتنی کوششیں کیں اور اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے لوگوں کو قائل کیا وہاں آج اسلامی قوانین نہیں بلکہ مغربی قوانین کے قریب قریب قوانین ملتے ہیں یہاں انفرادی مفادات کے پجاری لوگ نظر آرہے ہیں۔ قومی و مجموعی مفادات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اقبال وہ شخص تھے جنہیں بیرونی ممالک میں بھی سیاسی مفکر کی حیثیت سے اور انقلابی شاعر کے سبب ایک خاص مقام حاصل تھا۔

علامہ کے ذہن میں جمہوریت کا وہ نقشہ ہے جسے اسلام نے خلافت راشدہ کے دوران عوام کے سامنے پیش کیا ظاہر ہے کہ اس جمہوریت میں حکمرانوں کا طبقہ نہ تھا اور مملک دفاعی وفلاحی مملکت تھی۔امیر وزیر اور عوام کو قانون کے سامنے بیک سلوک دو چار ہونا پڑتا تھا مساوات ہر طرف عام تھی۔اقبال مغربی انداز کی جمہوری ملوکیت کے حامی ہیں۔اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں۔


جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
علامہ کا خیال ہے کہ دین کے بغیر روح و اخلاقی بالیدگی پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔دنیاوی و مادی ترقی کی دوڑ میں بے شک انسان کہیں سے کہیں پہنچ سکتا ہے لیکن ان کی مافوق المادہ خصوصیات بالکل فنا ہو کر رہ جاتی ہیں جن کی بناء پر ایسے امور سر انجام ہو جاتے ہیں جو عام حالات میں نہیں ہو سکتے۔


علامہ اقبال طبعاً آزاد تھے اور غلامی کی زنجیروں کی جھنکار سے بہت بیزار تھے انہوں نے قوم کو مردہ نہیں بلکہ خفتہ پایا‘ان کے دل میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی تمنا پیدا ہوئی۔علامہ نے قوم کو احساس دلایا کہ ان کی پسماندگی کا سبب ان کی اپنی بے حسی اور فرومائیگی ہے۔
اقبال انگریزوں سے ڈرتے نہیں تھے بلکہ سچائی کو منہ پر کہہ دیتے۔انگریزوں نے بڑی کوشش کی کہ ان کو کسی طرح نواز کر قوم کی رہنمائی سے ہٹا لیا جائے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔

انگریزوں کی تہذیب‘سیاست و ثقافت‘رسم و رواج کا مشاہدہ کرکے اقبال نے محسوس کیا کہ مسلمان کسی صورت میں بھی انگریزوں کے ساتھ رہ کر زندگی بسر نہیں کر سکتے۔مشاہدات نے آپ کو مجبور کر دیا کہ آپ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کا تصور پیش کریں۔علامہ کی علیحدہ مملکت کی سوچ نے مسلمان رہنماؤں میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا کہ وہ متحد ہو کر اپنی منزل کی طرف چل دئیے۔

انگریزوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں سے یہ زیادتی کی کہ ان کو ایک قوم کا درجہ دینے سے کبھی انکار اور کبھی اقرار کر لیتے۔آخر کار ان کو ماننا پڑا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ایک قوم ہیں قوم منوانے کا سہرا علامہ اقبال کے سر ہے۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا تجزیہ سیاسی‘مذہبی‘معاشی لحاظ سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اقبال اور قائداعظم کے علاوہ دیگر مسلم رہنماؤں کو یکسر فراموش کرکے اپنی اپنی راہیں متعین کر لیں اور ان راہوں سے کنارہ کشی کر لی جن کے سہارے ہمیں یہ ملک ملا۔

اقبال کے خطبات میں حصول پاکستان کے مقاصد میں اسلامی مملکت کا تصور جا بجا ملتا ہے لیکن ابھی تک پاکستان کو اسلامی مملکت کے نام پر استعمال ہی کیا گیا ہے۔موجودہ انتخاب میں بھی آئی جے آئی نے اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کئے اور لوگوں کو دھوکے میں رکھا۔کیا ایسا کرنے سے ہم اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دے رہے۔کیا ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو پس پشت نہیں ڈال رہے۔

کیا ہم اقبال کو اقبال ماننے سے انکار نہیں کر رہے۔اقبال نے خطبہ الہ آباد میں کہا تھا۔
”ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی‘تہذیبی‘ثقافتی‘تمدنی‘سماجی اور اقتصادی اختلافات اس قدر بنیادی ہیں کہ یہ کبھی دور نہیں ہو سکتے۔مسلمانوں کے حقوق صرف اسی صورت میں محفوظ ہو سکتے ہیں کہ جب انہیں مذہب اور تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت دی جائے اور اس طرح مسلم اکثریت کے علاقوں پر مشتمل ایک ریاست بنائی جائے۔اقبال کو سیاسی مفکر اور تصور پاکستان کےموجد کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
四房开心天

Your Thoughts and Comments